کالم         

پانچ سال قبل وہ اسی جنگل سے گزرا تھا۔ یہ جنگل اپنے تعلیمی معیار کی وجہ سے اس کے ذہن میں بسا رہا گیا۔یوں تو وہ ہزاروں جنگلوں سے گزرا تھا۔لیکن اس جنگل کی تعلیم حیران کن تھی۔ جنگل کی درس گاہ میں بطخوں کو درخت پر چڑھنے کی تربیت دی جارہی تھی‘بندروں کو تیراکی سکھائی جا رہی تھی۔ مرغی کو پیغام رسانی کے لئے استعمال کیاجا ررہاتھا اور کبوتروں کو انڈے دینے کے لئے۔۔۔۔۔۔

March 30, 2021      |      11:59PM 

اپنے گھوڑے کو بھگاتے ہوئے وہ ندی کے پاس سے گزرا۔ندی کے ساتھ والے راستے پر ایک گھڑسوار اپنے گھوڑے سے باتیں کر رہا تھا۔وہ حیران رہ گیا۔گھڑ سوار اپنے گھوڑے سے پوچھ رہا تھا گھوڑے بتا کس طرف جانا ہے ہمیں؟اگلا سفر کس طرف کو کریں؟ایک دن کا کریں یا ہفتے کا؟اور پورب کا کریں یا پچھم کا؟وہ رُک گیا اور اُس گھڑسوار کی خیریت معلوم کی اور پوچھا بھائی صاحب کدھر۔۔۔۔۔۔ 

March 31, 2021      |      11:59PM 

بکھری ہوئی سوچوں کو اکھٹا کر لوں ، ہزاروں خواہشوں کو  تمناِواحد میں یکجا کر لوں یا  پھرمنزل کو چھوڑ کر راستے کو اپنا کر لوں۔اس کے خیالوں کے جھرمٹ میں ایک سوچ ابھری اور ٹھہر گیُ کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟  مسافر اس سوال کا بوجھ اٹھاےُ چل پڑا۔ اس جواب کی تلاش میں  جو اس سوال کے بوجھ کو مسافر کے کندھوں سے ہٹانےکی اھلیت رکھتا ہو۔۔۔۔۔۔۔